چاند سورج کی طرح تو دور رہتا ہے مگر
قلب و جاں میں تیرے دم سے روشنی سی چھائی ہے
کیسے بن جاتا ہے پل میں اک جنم کا واسطہ
تم سے مل کر جانِ جاں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
کِھل اٹھتا ہے من میرا جب پیار سے کہتا ہے وہ
میری دنیا اک تیری مُسکان میں سمائی ہے
کیا کریں مجبور ہیں جو پیار سے ہم دور ہیں
کہ ساتھ رہنے میں محبت کی بڑی رسوائی ہے
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment