صفحات

Saturday, 2 January 2021

شہر کا شہر جب رہا خاموش

 شہر کا شہر جب رہا خاموش

ایک میں ہی نہ رہ سکا خاموش

اس کی دہلیز نے کہا؛ خاموش

عشق دیتا نہیں صدا، خاموش

لوگ الزام دے رہے تھے مجھے

اور سن کر بھی تُو رہا خاموش

دل میں اک شور تھا قیامت کا

اور باہر سے میں لگا خاموش

کم سے کم اس کی داد بنتی ہے

میں تجھے دیکھ کر بھی تھا خاموش

💢آخرِ شب، صغیر، تنہائی

ایک تصویر، اک دِیا🪔 خاموش


صغیر احمد صغیر

صغیر احمد احسنی

No comments:

Post a Comment