شہر کا شہر جب رہا خاموش
ایک میں ہی نہ رہ سکا خاموش
اس کی دہلیز نے کہا؛ خاموش
عشق دیتا نہیں صدا، خاموش
لوگ الزام دے رہے تھے مجھے
اور سن کر بھی تُو رہا خاموش
دل میں اک شور تھا قیامت کا
اور باہر سے میں لگا خاموش
کم سے کم اس کی داد بنتی ہے
میں تجھے دیکھ کر بھی تھا خاموش
💢آخرِ شب، صغیر، تنہائی
ایک تصویر، اک دِیا🪔 خاموش
صغیر احمد صغیر
صغیر احمد احسنی
No comments:
Post a Comment