Saturday, 2 January 2021

مجھے دھڑکن سنائی دے رہی ہے

 مجھے دھڑکن سنائی دے رہی ہے

تری الجھن سنائی دے رہی ہے

دماغ و دل میں ہے اک شور برپا

بڑی ان بن سنائی دے رہی ہے

مرے ہاتھوں میں کنگن تو نہیں ہیں

یہ کیوں کھن کھن سنائی دے رہی ہے

ٹپا ٹپ سی یہ بوندیں ناچتی ہیں

عجب جھانجن سنائی دے رہی ہے

جو صدیوں دور ہے اس تشنہ من کی

مجھے تڑپن سنائی دے رہی ہے

جدائی نام ہے اے عشق والو

یہ جو ناگن سنائی دے رہی ہے

دھمالیں عشق میں ڈالی ہیں دل نے

یا پھر جوگن سنائی دے رہی ہے


عنبرین خان

No comments:

Post a Comment