صفحات

Saturday, 16 January 2021

زندگی زندہ ہے لیکن کسی دم ساز کے ساتھ

 زندگی زندہ ہے لیکن کسی دم ساز کے ساتھ

ورنہ یوں جیسے کبوتر کوئی شہباز کے ساتھ

بجلیاں ساتھ لیے زہر بھرے لمحوں کی

وقت چلتا ہے زمانے میں کس انداز کے ساتھ

آسماں جانے کہاں لے کے چلا ہے مجھ کو

اوپر اٹھتا ہے برابر مِری پرواز کے ساتھ

آج تنہا ہوں تو کیا، دیکھتا رہنا کل تک

اور آوازیں بھی ہوں گی مِری آواز کے ساتھ

ایک آغاز ابھرتا ہے ہر انجام کے بعد

ایک انجام بھی پلتا ہے ہر آغاز کے ساتھ

ایک لمحہ کہ گراں ہے مجھے تنہائی میں

ایک دنیا کہ جواں ہے مِرے ہمراز کے ساتھ


جلیل عالی

No comments:

Post a Comment