بس حکم دے دیا ہے بتایا نہیں گیا
ہم کو تو فیصلہ بھی سنایا نہیں گیا
تم ہی تو کہہ رہے تھے محبت ہے زندگی
پھر یہ گِلہ کہ مر کے دِکھایا نہیں گیا
دستار گر پڑی تو اٹھانے کو جھک گئے
ویسے سرِ غرور جھکایا نہیں گیا
اک بار خوب روئے تھے اس کے فراق میں
ویسا مجھے کبھی بھی رُلایا نہیں گیا
تُو ہی سمیٹ ڈال فسانے کو زندگی
تیرا یہ بوجھ مجھ سے اٹھایا نہیں گیا
آواز بزمِ ناز میں باہر سے دی گئی
کیسے کہیں کہ ہم کو بلایا نہیں گیا
کیسے بھلا سکے گا یہ غم ہائے روزگار
تجھ سے تو ایک شخص بھُلایا نہیں گیا
رُوٹھا ہزار بار، مناتے رہے اسے
ساجد وہ ہم سے آج منایا نہیں گیا
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment