صفحات

Saturday, 2 January 2021

ہم کو آغاز سفر مارتا ہے

 ہم کو آغازِ سفر مارتا ہے

مرتا کوئی نہیں ڈر مارتا ہے

تیری قربت نہیں مجھ سے نہ سہی

مجھ کو تو حسنِ نظر مارتا ہے

زندگی ہے مِری مشکل میں پڑی

عشق بے کار میں سر مارتا ہے

اک ہنسی گونجتی ہے گھر میں مِرے

مجھ کو یادوں کا سحر مارتا ہے

خواب اتنے کہ دُہائی عنبر

اِن کا پھر زیر و زبر مارتا ہے


نادیہ عنبر لودھی

No comments:

Post a Comment