صفحات

Saturday, 2 January 2021

درون خاک پس آتش و ہوا پانی

 درونِ خاک پسِ آتش و ہوا پانی

کہ ہے فریبِ عناصر سے ماورا پانی

اسے خبر ہے بجھانی ہے اس کو شہر کی آگ

سو مطمئن ہے بہت چونچ میں بھرا پانی

صلیب شام کے ہاتھوں پہ جاں بہ لب سورج

انڈیلتا ہے دعاؤں کا نارسا پانی

کوئی بتائے کہ ویران کر کے بستی کو

سنوارتا ہے کسے آنکھ کا مرا پانی

شکست خواب کے ہنگام، شب کے پیاسوں کے

سفارشی ہے سرہانے دھرا ہوا پانی

اسیرِ ذوقِ نمو راج ہنس کو مجروح

پکارتا ہے کسی جھیل کا ہرا پانی


حسین مجروح

No comments:

Post a Comment