صفحات

Saturday, 2 January 2021

کل رات اس سے میں جو ہوا محو گفتگو

کل رات اس سے میں جو ہوا محو گفتگو

وہ میرے روبرو رہا میں اس کے روبرو

نکلے تری تلاش میں پایا یہی  ہے بھید 

ہر سمت ہر جگہ پر نظر آیا تُو ہی تُو

پھولوں کو بھی ثبات تمھارے ہی دم سے ہے 

خوشبو تمہاری زلف کی پھیلی ہے چار سو

جب میں نظر نہ آوں تو ڈھونڈا کرے مجھے 

پھِرتا رہے وہ قریہ بہ قریہ و جو بہ جو 

ترے بغیر کوئی ملا ہی نہیں مجھے 

دیکھوں نظر اٹھا کے نظر آئے صرف تُو

آواز دے کے دیکھ لیا ہے نگر نگر

کوئی نہیں ہے تجھ سا حسیں اور ہو بہ ہو

پھر اس کے بعد ہم نے اداسی  لپیٹ لی 

بے چین پھر رہی تھی مرے میں میں کو بہ کو 


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment