عجب خاموش لڑکی ہے
لتا کے گانے سے اپنی محبت کا یقین مجھ کو دلاتی ہے
وہ کہتی ہے
مگر وہ کچھ نہیں کہتی
فقط میری طرف وہ دیکھتی ہے
اور پیشانی پہ کچھ جملے اُبھرتے ہیں
نہ جانے کون سا غم اس کی خاموشی بنا ہے
وہ جب بھی مجھ سے ملتی ہے
حیا کے فرض ادا کرنے میں ہی مصروف رہتی ہے
نہ اپنی بات کرتی ہے نہ میرے دل کی سنتی ہے
عجب خاموش لڑکی ہے
وہ میرے ساتھ چلتی ہے
تو رستے اچھے لگتے ہیں
وہ بولے تو زمیں کے سارے جملے سچے لگتے ہیں
مگر وہ بولتی کب ہے
وہ بس آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی پیغام دیتی ہے
جس میں سن نہیں سکتا
جسے میں سن نہیں پایا
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment