صفحات

Saturday, 2 January 2021

عجب خاموش لڑکی ہے

 عجب خاموش لڑکی ہے

لتا کے گانے سے اپنی محبت کا یقین مجھ کو دلاتی ہے

وہ کہتی ہے

مگر وہ کچھ نہیں کہتی

فقط میری طرف وہ دیکھتی ہے

اور پیشانی پہ کچھ جملے اُبھرتے ہیں

نہ جانے کون سا غم اس کی خاموشی بنا ہے

وہ جب بھی مجھ سے ملتی ہے

حیا کے فرض ادا کرنے میں ہی مصروف رہتی ہے

نہ اپنی بات کرتی ہے نہ میرے دل کی سنتی ہے

عجب خاموش لڑکی ہے

وہ میرے ساتھ چلتی ہے

تو رستے اچھے لگتے ہیں

وہ بولے تو زمیں کے سارے جملے سچے لگتے ہیں

مگر وہ بولتی کب ہے

وہ بس آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی پیغام دیتی ہے

جس میں سن نہیں سکتا

جسے میں سن نہیں پایا


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment