صفحات

Sunday, 3 January 2021

وہ جو آوارہ مسافر ہیں کدھر جاتے ہیں

 وہ جو آوارہ مسافر ہیں کدھر جاتے ہیں

شام کے وقت پرندے بھی تو گھر جاتے ہیں

رات کی چیختی وحشت کا بھرم رکھنے کو

ہم ستاروں کی طرح تا بہ سحر جاتے ہیں

اس قدر ظرف کی تنگی کا ہمیں سامنا ہے

کچھ سمندر ہیں جو دریا میں اتر جاتے ہیں

جب بھی آتا ہے ہمیں حرفِ ملامت کا خیال

اشک آنکھوں سے کہیں دور ٹھہر جاتے ہیں

میری سوچوں کو وہ یکجا نہیں ہونے دیتا

یاد آئے تو خیالات بکھر جاتے ہیں

کس گھڑی تیز ہواؤں کو خبر ہو جائے

شہر میں جشنِ چراغاں ہو تو ڈر جاتے ہیں

بھولنے والوں پہ حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

خشک پتے تو خزاؤں میں بکھر جاتے ہیں

اس کا سن کر یہ ہوا کرتی ہے دل کی حالت

اس قدر تیز دھڑکتا ہے کہ ڈر جاتے ہیں

جب وہ عباس تبسم کا ہنر بانٹتا ہے

کتنے دامن ہیں کہ خیرات سے بھر جاتے ہیں


حیدر عباس

No comments:

Post a Comment