قصہ ہے، نہ روداد، کہانی بھی نہیں ہے
اب یاد کوئی اس کی نشانی بھی نہیں ہے
جتنی ہے لبوں پر مِرے یہ پیاس کی شدت
اتنا تو مِرے حصے میں پانی بھی نہیں ہے
مجھ کو بھی نہیں ناز ذرا اپنے سخن پر
دنیا مِرے لہجے کی دِوانی بھی نہیں ہے
بدلی ہے بہت اس سے مِری اب کی شباہت
حالانکہ یہ تصویر پرانی بھی نہیں ہے
مصروف اگر حسن ہے خود میں تو مجھے کیا
فرصت میں ابھی میری جوانی بھی نہیں ہے
دنیا کی نظر میں ہے وہ مقبول سخنور
شعروں میں ابھی جس کے روانی بھی نہیں ہے
میں کس کے لیے دل کے چراغوں کو جلاؤں
جب شام کوئی میری سہانی بھی نہیں ہے
کیوں اس کو لگاتا نہیں سینے سے کبھی تو
وہ جب کہ تِرا دشمنِ جانی بھی نہیں ہے
دنیا نہ ابھی تجھ کو سمجھ پائے گی منظر
نادان تو یہ ہے ہی، سیانی بھی نہیں ہے
منظر اعظمی
No comments:
Post a Comment