صفحات

Monday, 4 January 2021

بدل جاتے ہیں اکثر لوگ اب موسم بدلنے تک

 بدل جاتے ہیں اکثر لوگ اب موسم بدلنے تک

کوئی اب ساتھ دیتا ہی نہیں ہے دم نکلنے تک

ہوس جب شوق بن جائے تو ایسے حال میں یارو

کسی حیوان سے کم تو نہیں انساں بدلنے تک

کسی کی یاد میں مرتا نہیں ہے اب یہاں کوئی

محبت لوگ کرتے ہیں طبیعت کے بہلنے تک

بڑی مدت میں آیا ہے ہنر منزل کو پانے کا

بہت کھائی ہے ٹھوکر دوستو میں نے سنبھلنے تک

مِرے حجرے میں اب کوئی شمع روشن نہیں ہوتی

فقط دل میرا جلتا رہتا ہے سورج نکلنے تک

میں صحرا کا مسافر ہوں مِری منزل نہیں کوئی

اے منظر سوچ لینا تم مِرے ہمراہ چلنے تک


منظر اعظمی

No comments:

Post a Comment