بدل جاتے ہیں اکثر لوگ اب موسم بدلنے تک
کوئی اب ساتھ دیتا ہی نہیں ہے دم نکلنے تک
ہوس جب شوق بن جائے تو ایسے حال میں یارو
کسی حیوان سے کم تو نہیں انساں بدلنے تک
کسی کی یاد میں مرتا نہیں ہے اب یہاں کوئی
محبت لوگ کرتے ہیں طبیعت کے بہلنے تک
بڑی مدت میں آیا ہے ہنر منزل کو پانے کا
بہت کھائی ہے ٹھوکر دوستو میں نے سنبھلنے تک
مِرے حجرے میں اب کوئی شمع روشن نہیں ہوتی
فقط دل میرا جلتا رہتا ہے سورج نکلنے تک
میں صحرا کا مسافر ہوں مِری منزل نہیں کوئی
اے منظر سوچ لینا تم مِرے ہمراہ چلنے تک
منظر اعظمی
No comments:
Post a Comment