صفحات

Friday, 1 January 2021

سچی عدالتوں کی کہانی بھی جھوٹ ہے

 سچی عدالتوں کی کہانی بھی جھوٹ ہے

اور قاتلوں کی آنکھ کا پانی بھی جھوٹ ہے

یاروں کی دو رخی کا عبث غم ہو جان پر

ہے وقت وہ کہ دشمنِ جانی بھی جھوٹ ہے

افراطِ زر کی کہنہ کہانی جو خام تھی

پھر جنس کی یہ تازہ گرانی بھی جھوٹ ہے

یہ داغ ایک لفظ ہے مرہم بھی ایک لفظ

چارہ گری بھی، زخمِ نہانی بھی جھوٹ ہے

ہرزہ سرائی ہیں یہ محبت کے معجزے

الفت نئی بھی مکر، پرانی بھی جھوٹ ہے

اس برفزارِ دل میں اگاتے ہو شعر تم

برہم تمہاری شعلہ بیانی بھی جھوٹ ہے


بہزاد برہم

No comments:

Post a Comment