سچی عدالتوں کی کہانی بھی جھوٹ ہے
اور قاتلوں کی آنکھ کا پانی بھی جھوٹ ہے
یاروں کی دو رخی کا عبث غم ہو جان پر
ہے وقت وہ کہ دشمنِ جانی بھی جھوٹ ہے
افراطِ زر کی کہنہ کہانی جو خام تھی
پھر جنس کی یہ تازہ گرانی بھی جھوٹ ہے
یہ داغ ایک لفظ ہے مرہم بھی ایک لفظ
چارہ گری بھی، زخمِ نہانی بھی جھوٹ ہے
ہرزہ سرائی ہیں یہ محبت کے معجزے
الفت نئی بھی مکر، پرانی بھی جھوٹ ہے
اس برفزارِ دل میں اگاتے ہو شعر تم
برہم تمہاری شعلہ بیانی بھی جھوٹ ہے
بہزاد برہم
No comments:
Post a Comment