صفحات

Friday, 1 January 2021

تم مری ذات میں سما جاؤ

 تم مری ذات میں سما جاؤ

مر گیا، معجزہ دکھا جاؤ

جم گیا خون میری گالوں میں

سینک کے ہاتھ تم لگا جاؤ

کچھ تو بچھڑن کا دکھ بھی ہو مدھم

جاتے جاتے یوں مسکرا جاؤ

بوسۂ آبِ حیات ہو مجھ کو

یا مجھے زہر تم پلا جاؤ


ابوبکر فیض

No comments:

Post a Comment