صفحات

Friday, 15 January 2021

ہم بھی گدھ جاتی ہیں

 ہم بھی گِدھ جاتی ہیں

کہ

اکثر چاندنی راتوں میں

دل کے مکینوں پر

دیوانگی بین کرتی ہے

اور یہ فرزانگی ہمیں

آدھی آدھی رات تک

بھٹکائے لیے پھرتی یہ

اور ہجر سے بھری

یاس آنکھیں لے کر

دشتِ مردار سے

مردہ محبت کو 

نوچ نوچ کر

باقی رات بتاتے ہیں

ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر

مردہ جسموں کی

تاجپوشی کرتے ہیں

ہم بھی گِدھ جاتی ہیں


فیصل ملک

No comments:

Post a Comment