اشک پینے نہ درد کھانے سے
عشق پلتا ہے خوں پلانے سے
کیسے کہدوں تمہاری یاد سے میں
جا نکل جا میرے فسانے سے
اپنے در پر میں ایک آہٹ کا
منتظر ہوں بڑے زمانے سے
میرے گھر ہے ایک میرا وجود
اور برتن ہیں کچھ پرانے سے
روز کرتے ہیں بزم میں رسوا
اشک چھپتے نہیں چھپانے سے
جی رہا ہوں کہ مر گیا ہوں میں
دیکھ جاتا ہے وہ بہانے سے
مسٸلے حل ہوئے ہزاروں امین
ایک آواز کے اٹھانے سے
امین اوڈیرائی
No comments:
Post a Comment