تختی قلم دوات سے پہلے کی بات ہے
یہ عشق کائنات سے پہلے کی بات ہے
سچ ہے کہ میں بھی پیار کا مُنکر بنا رہا
ہاں، ہاں یہ تیری ذات سے پہلے کی بات ہے
اب تو تِرے غلط پہ بھی آمین کہہ دیا
انکار تیری بات سے پہلے کی بات ہے
بس بے سبب فرات پہ الزام آ گیا
یہ پیاس تو فرات سے پہلے کی بات ہے
کُن کا دہن تلاش کریں مِل کے دوستو
یہ لفظ شش جہات سے پہلے کی بات ہے
میں ناز زندگی کے اٹھاتا رہا بجا
پر یہ مِری وفات سے پہلے کی بات ہے
اک کربِ نا تمام سے نکلا تو رو پڑا
میری خوشی نجات سے پہلے کی بات ہے
کاظم تھا خوف رزقِ سخن میں کمی نہ ہو
یہ عشق کی زکوٰۃ سے پہلے کی بات ہے
کاظم حسین کاظم
No comments:
Post a Comment