وہ جو دوسروں کی دنیا کے
خدا ہوتے ہیں
ایک بدن کو
نہ جانے کتنی قبروں میں
بانٹ دیتے ہیں
اور جب کبھی وہ
ان قبروں کے عذاب سے
جاگتے ہیں
زندگی کی
آزاد سانسوں میں
زندہ خوابوں کو ہُمکتا دیکھ کر
اپنے اندر دھڑکنا
چھوڑ دیتے ہیں
اور پھر آہستہ سے
انہی قبروں کی تہہ میں
آ کر بیٹھ جاتے ہیں
شبنم عشائی
No comments:
Post a Comment