صفحات

Wednesday, 6 January 2021

سارے امکان برملا رکھو

 سارے امکان برملا رکھو

چھوڑ جانے کا حوصلہ رکھو

اس کو پیچیدگی سے نفرت ہے

حل طلب کوئی مسئلہ رکھو

حسبِ اوقات جو بھی مل جائے

کم میسر سے مت گِلہ رکھو

یہ نہ ہو ہِجر گھُٹ کے مر جائے

آنکھ سے کوئی راستہ رکھو

سوچ کا انقلاب آئے گا

شہر میں ایک سر پھرا رکھو

خواب اوروں میں بانٹ آئے ہو

میری آنکھوں میں رتجگا رکھو


زہرا شاہ

No comments:

Post a Comment