میں دریا ہونے سے پہلے پتھر تھا
اک درویش نے مجھ کو ٹھوکر ماری تھی
تُو جو آئے تو اسے آنکھ میں بھر کر دیکھوں
یہ جو اک نیند مِرے پاس پڑی رہتی ہے
اتنا معلوم ہے اس جسم پہ پھول آئے تھے
اس سے آگے کی کہانی پہ خزاں طاری ہے
سفر میں وقت کا جغرافیہ بدل گیا ہے
وہیں پڑاؤ کریں گے جہاں نہیں کرنا
کب تک یہ انتظار کی ٹہنی جھکی رہے
میں پک گیا ہوں شاخِ بدن پر اتار بھی
منیر جعفری
No comments:
Post a Comment