ہجر کاٹوں گا اسے کاٹ کے آدھا کروں گا
کام دنیا کے میں پہلے سے زیادہ کروں گا
میں بھی جدت کے تقاضوں کا نبھاؤں گا مگر
نئے انداز میں ہر بات کو سادہ کروں گا
ہجر کی رات جلاؤں گا میں یادوں کے چراغ
اور تنہائی کی وخشت کو لبادہ کروں گا
پھر نہ تم کو ملیں گے میری کتابوں سے گلاب
ترکِ الفت کا میں جس روز ارادہ کروں گا
وہ تِرے گاؤں سے ہو کے جو گزرتی ہے سڑک
میں عقیدت میں سفر اس پہ پیادہ کروں گا
میں نے تقدیسِ محبت سے یہ سیکھا ہے عمیر
وعدہ لوں گا کسی سے نا کبھی وعدہ کروں گا
عمیر قریشی
No comments:
Post a Comment