صفحات

Thursday, 14 January 2021

ہجر کاٹوں گا اسے کاٹ کے آدھا کروں گا

 ہجر کاٹوں گا اسے کاٹ کے آدھا کروں گا

کام دنیا کے میں پہلے سے زیادہ کروں گا

میں بھی جدت کے تقاضوں کا نبھاؤں گا مگر

نئے انداز میں ہر بات کو سادہ کروں گا

ہجر کی رات جلاؤں گا میں یادوں کے چراغ

اور تنہائی کی وخشت کو لبادہ کروں گا

پھر نہ تم کو ملیں گے میری کتابوں سے گلاب

ترکِ الفت کا میں جس روز ارادہ کروں گا

وہ تِرے گاؤں سے ہو کے جو گزرتی ہے سڑک

میں عقیدت میں سفر اس پہ پیادہ کروں گا

میں نے تقدیسِ محبت سے یہ سیکھا ہے عمیر

وعدہ لوں گا کسی سے نا کبھی وعدہ کروں گا


عمیر قریشی

No comments:

Post a Comment