صفحات

Thursday, 14 January 2021

شہر بلقیس میں ایک شام

 شہر بلقیس میں ایک شام


شہر بلقیس! تِری خواب نما گلیوں میں

ایک دروازہ مِرے دل میں کہیں کھلتا ہے

ایسے چپکے سے

کہ زنجیر ٹھٹک جاتی ہے

اتنی آہستہ

کہ آواز بھی مر جاتی ہے

تِری گلیاں کہ پرستان کی ملکائیں ہیں

اور بازار ہیں

خوشبو کے سفارتخانے

یہی گلیاں، یہی بازار تھے جن کی آنکھیں

تیرے دیدار سے مغرور رہا کرتی تھیں

یہی رستے یہی دو محلے تھے جن کے بازو

تیری سانسوں، تِری باتوں سے

مہک اٹھتے تھے

آج آیا ہوں

جو اس خواب سرائے میں کئی سال کے بعد

سر جھکائے ہوئے، آواز کو پتھرائے ہوئے

وہی گلیاں وہی بازار وہی رستے ہیں

لیکن اعجازِ مسیحائی و رعنائی کہاں

گرد اڑتی ہے مہ و سال پذیرائی کی

روح میں ایسے جدائی کا لہو گھلتا ہے

ایک دروازہ

مِرے دل میں کہیں کھلتا ہے


حسین مجروح

No comments:

Post a Comment