صفحات

Sunday, 3 January 2021

آپس میں کہیں اپنے ستارے نہیں ملتے

 آپس میں کہیں اپنے ستارے نہیں ملتے

جیسے کبھی دریا کے کنارے نہیں ملتے

مجبورئ قسمت کہ انہی سے ہے تعلق

وہ جن سے میری سوچ کے دھارے نہیں ملتے

افسانۂ ہستی وہ مکمل ہی نہیں ہے

جس میں تیری چاہت کے اشارے نہیں ملتے

منزل کی تمنا ہے، تو کر جہدِ مسلسل

خیرات میں تو چاند ستارے نہیں ملتے

اس شخص کے سانچے میں بھلا کیسے ڈھلیں ہم

جس سے کہ خیالات ہمارے نہیں ملتے


آغا جرار

No comments:

Post a Comment