آپس میں کہیں اپنے ستارے نہیں ملتے
جیسے کبھی دریا کے کنارے نہیں ملتے
مجبورئ قسمت کہ انہی سے ہے تعلق
وہ جن سے میری سوچ کے دھارے نہیں ملتے
افسانۂ ہستی وہ مکمل ہی نہیں ہے
جس میں تیری چاہت کے اشارے نہیں ملتے
منزل کی تمنا ہے، تو کر جہدِ مسلسل
خیرات میں تو چاند ستارے نہیں ملتے
اس شخص کے سانچے میں بھلا کیسے ڈھلیں ہم
جس سے کہ خیالات ہمارے نہیں ملتے
آغا جرار
No comments:
Post a Comment