Sunday, 3 January 2021

ایک جگنو ہے کہ منزل کے حوالے مانگے

 ایک جگنو ہے کہ منزل کے حوالے مانگے

ایک تتلی ہے کہ جگنو سے اجالے مانگے

ایک وہ حشر ہے جو دل میں بپا رہتا ہے

اور اک دل ہے، زباں پر بھی جو تالے مانگے

میری تصویر کے سب رنگ زوال آمادہ

اور مِرا یار کہ شہکار نرالے مانگے

آخرش دربدری قیس کی اب ختم ہوئی

آج تو لیلیٰ نے بھی دیس نکالے مانگے

رسم کچھ ایسی چلی موسمِ گل میں کہ یہاں

سب نے مانگے بھی تو بس خون کے پیالے مانگے

جانے کس دور میں دھرتی پہ میں اترا ہوں بلال

زندہ رہنے کے بھی انسان حوالے مانگے


بلال اعظم

No comments:

Post a Comment