صفحات

Tuesday, 12 January 2021

کوئی تہمت کوئی الزام بھی آ سکتا ہے

 کوئی تہمت کوئی الزام بھی آ سکتا ہے

اس کی جانب سے یہ پیغام بھی آ سکتا ہے

سانس کی پھانس نکل سکتی ہے اس سینے سے

تیرے بیمار کو آرام بھی آ سکتا ہے

انتظار اس کا اسی شام پہ موقوف نہیں

صبح کا بھولا کسی شام بھی آ سکتا ہے

گھر کے جھگڑے کو مناسب ہے کہ گھر میں رکھو

ورنہ یہ قضیہ سرِ عام بھی آ سکتا ہے


مسعود احمد اوکاڑوی

No comments:

Post a Comment