کوئی تہمت کوئی الزام بھی آ سکتا ہے
اس کی جانب سے یہ پیغام بھی آ سکتا ہے
سانس کی پھانس نکل سکتی ہے اس سینے سے
تیرے بیمار کو آرام بھی آ سکتا ہے
انتظار اس کا اسی شام پہ موقوف نہیں
صبح کا بھولا کسی شام بھی آ سکتا ہے
گھر کے جھگڑے کو مناسب ہے کہ گھر میں رکھو
ورنہ یہ قضیہ سرِ عام بھی آ سکتا ہے
مسعود احمد اوکاڑوی
No comments:
Post a Comment