صفحات

Friday, 5 February 2021

یہ نہر اس کی ہے اس کا کنارا اس کا ہے

 یہ نہر اس کی ہے، اس کا کنارا اس کا ہے

وہ جس کے ساتھ ہے، لاہور سارا اس کا ہے

یہی ذرا سا تعلق ہمارا اس کا ہے

ہمارا ہے نہ اکیلے گزارا اس کا ہے

اداسیوں میں بلیو ایریا ہے اس کا بہت

اور آنسوؤں میں کہیں آبپارا اس کا ہے

اجڑ کے دل کبھی آباد ہو نہیں سکتا

کہیں یہ پھول کھِلا تو دوبارا اس کا ہے


ادریس بابر

No comments:

Post a Comment