یہ نہر اس کی ہے، اس کا کنارا اس کا ہے
وہ جس کے ساتھ ہے، لاہور سارا اس کا ہے
یہی ذرا سا تعلق ہمارا اس کا ہے
ہمارا ہے نہ اکیلے گزارا اس کا ہے
اداسیوں میں بلیو ایریا ہے اس کا بہت
اور آنسوؤں میں کہیں آبپارا اس کا ہے
اجڑ کے دل کبھی آباد ہو نہیں سکتا
کہیں یہ پھول کھِلا تو دوبارا اس کا ہے
ادریس بابر
No comments:
Post a Comment