یہ دریا ہے
یا تیرے شاعر کا سینہ ہے
جس میں مہا رنگ موتی ہے
اس گہرے دریا پہ
کیسے
ستاروں کی جھلمل ہے
کس دُودھیا روشنی کی طربناک لرزش ہے
اندھی، اندھیروں بھری گہری پاتال میں
اک اُبھرتا ہوا
کیسا مہتاب ہے
تیرے شاعر کے شفّاف لفظوں کی صورت
اُفق کے سیہ رنگ سینے سے
باہر نکلنے کو
مہتاب بے تاب ہے
اقتدار جاوید
No comments:
Post a Comment