وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا
وہ اک چراغ جو جلنے میں بھی بے مثال رہا
کبھی بھُلا نہ سکا دل💔 شکستگی اپنی
جُڑا تو جُڑ کے بھی اس آئینے میں بال رہا
تمہارے بعد کسی سے فریب کھایا نہیں
تمہارا مجھ سے بچھڑنا بھی نیک فال رہا
غموں کو حاوی نہ ہونے دیا کبھی دل پر
شبِ فراق بھی ذکرِ شبِ وصال رہا
غزل اسی کی تھی حاوی تمام غزلوں پر
وہاں بھی رونقِ بزمِ سخن کمال رہا
احمد کمال حشمی
No comments:
Post a Comment