شکوہ
ہے ایک دن کا ماجرا
کوئی نہ تھا خود کے سوا
تھا چار سو محشر بپا
تخیل کا، جذبات کا
تھی بے رخی احباب کی
اُس پر کمی اسباب کی
سمجھا جسے ہمدرد تھا
بے چارگی کی حد نہ تھی
گھیرے ہوئے تھی مفلسی
اپنوں کی بے پروائیاں
غیروں کی صف آرائیاں
یہ سارے ساماں رنج کے
آنکھوں کے آگے پھر گئے
دل کا عجب عالم ہوا
لب تک یہ نالہ آ گیا
اے بانئ رحم و کرم
اللہ! یہ سارے ستم
اور ایک مشتِ خاک پر
جوابِ شکوہ
آئی ندا یہ غیب سے
تو اور یوں شکوہ کرے
دنیا کا ہے عالم یہی
عشرت کبھی عُسرت کبھی
ہے مخملی بستر کبھی
ہے خشت زیرِ سر کبھی
محلوں کی آسائش کبھی
صحرا کی پیمائش کبھی
رنج و محن، عیش و خوشی
ہے چار دن کی چاندنی
سب کو فنا! سب کو فنا
ہے ذاتِ باری کو بقا
واقف جو ہو اِس راز کا
مطرب جو ہو اِس ساز کا
رنج و خوشی یکساں اُسے
یہ آگہی اُس کے لیے
مرہم دلِ صد چاک پر
عظیم الدین احمد
No comments:
Post a Comment