اے دل یہ تِری شورشِ جذبات کہاں تک
اے دیدۂ نم اشکوں کی برسات کہاں تک
برہم نہیں ہم، آپ کی بے گانہ روی سے
اپنوں سے مگر ترکِ ملاقات کہاں تک
آخر کوئی مہ تاب تو ہو اس کا مقدر
بھٹکے گی ستاروں کی یہ بارات کہاں تک
ہو جاتا ہے آنکھوں سے عیاں جُرمِ محبت
پوشیدہ رہے دل کی ہر اک بات کہاں تک
نکلو جو کبھی ذات کے زِنداں سے تو دیکھو
آباد ہیں عبرت کے مقامات کہاں تک
راسخ ہو اگر عزم، تو ہر شے ہے مسخر
اے اہلِ نظر، شکوۂ حالات کہاں تک
سورج کو نکلنا ہے، نکل کر ہی رہے گا
پھیلائے گی دام اپنا سیہ رات کہاں تک
کس راہ میں ہے موسمِ گُل، ڈھونڈ کے لاؤ
زخموں سے مِرے ہو گی مدارات کہاں تک
احساس سے، ہر شخص ہو عاری جہاں نجمہ
بانٹوں گی وہاں درد کی سوغات کہاں تک
نجمہ انصار
No comments:
Post a Comment