صفحات

Friday, 26 March 2021

میں نے ہرغم کو محبت کا ثمر جانا ہے

 میں نے ہرغم کو محبت کا ثمر جانا ہے

ہر مصیبت کو فقط گردِ سفر جانا ہے

مجھ کو آتا نہیں زخموں کی نمائش کرنا

زخم تو زخم ہے ہر حال میں بھر جانا ہے

وہ بھٹکتا ہی رہا دہر کی تاریکی میں

جس نے آغاز کو انجامِ سفر جانا ہے

مجھ کو معلوم ہے کیا شے ہے محبت کا جنون

زندہ رہنا ہے کبھی جاں سے گُزر جانا ہے

شاخ سے گُل کا بچھڑنا کوئی آسان نہیں

کبھی بِکنا، کبھی مُرجھا کے بِکھر جانا ہے

جِینا ہے گر تو جیو ایسے کہ تمثیل رہے

زندگی کو تو بہر حال گزر جانا ہے

اک تماشا ہے، یہاں زندگی کرنا حیدر

ختم جب ہو گا تو پھر لوٹ کے گھر جانا ہے


ذوالفقار حیدر پرواز

No comments:

Post a Comment