صفحات

Friday, 26 March 2021

ہمیں خانوں میں مت بانٹو

 ہمیں خانوں میں مت بانٹو

کہ ہم تو روشنی ٹھہرے

کسی دہلیز پر جلتے ہوئے شب بھر

کسی کا راستہ تکتے

چراغوں سے بھی آگے ہے جہاں اپنا

اجالوں کی کمک لے کر

اندھیرے کی صفوں کو چیر جاتے ہیں

یہ جگنو چاند اور تارے

ہماری صورتیں جیسے

ہمیں خانوں میں مت بانٹو

ہوا ہیں ہم

بھلا دیوار و در میں قید کیا ہوں گے

سنہری صبح ڈھلتی شام کی راحت ہمیں سے ہے

ہمیں میزان پر رکھنے سے پہلے

تولنے سے قبل اتنا سوچ لینا ہے

ہمارا بوجھ تیری بند مٹھی میں دبی رسی

اٹھائے گی بھلا کیسے

کہ ہم تو شش جہت میں

جس طرف نظریں اٹھاؤ

دیکھ لو پھیلی ہوئی بکھری ہوئی ہم کو

کہ ہم تو زندگی ہیں


کہکشاں تبسم

No comments:

Post a Comment