صفحات

Friday, 26 March 2021

سنو گر میں محبت ہوں

 سنو 

گر میں محبت ہوں 

مِرا حق ہے کہ مجھ کو پھُول گجرے دو

ہاں میری زندگی میں ہی 

میرے گرد و نواح کو رنگ و پھُول و حُسن سے بھر دو

میری تعریف میں بولو 

مِری ایک ایک عادت پر نگاہ رکھو 

سنو گر میں محبت ہوں

تو میری زندگی میں ہی مجھے چاہو

اور اتنا ٹوٹ کر چاہو

کہ کل میں نہ ہوں اور تم قبر پر آؤ

تو میں وہاں پر بھی اُٹھ بیٹھوں

تمہارے منہ سے نکلی ساری باتوں پر

وہاں سے بھی میں مسکاؤں 

سنو گر میں محبت ہوں 

مِرا حق ہے 

کہ تم اتنا مجھے چاہو 

کہ کل کو دم نکل جائے 

تو میرے دل میں چاہے جانے کی حسرت کوئی نہ ہو


عروج زہرا زیدی

No comments:

Post a Comment