کہو تو رونقِ دل ہم تمہارے نام کریں
یہ زندگی کا سفر ہم یہیں تمام کریں
سجا کے طشت پہ رکھا ہے پھول اور خنجر
جھکا ہے سر بھی تو کیا اور اہتمام کریں
یہ خامشی تو مسائل کا حل نہیں ہے جناب
بنامِ فردا ہی آپس میں کچھ کلام کریں
تعلقات بنانے میں وقت لگتا ہے👫
ذرا سی بات پہ یونہی نہ اختتام کریں
وہ بخش دیں مجھے رونق ہوں منتظر ان کا
کبھی تو کعبۂ دل میں بھی وہ قیام کریں
یقین جانئے مٹ جائیں گی کدورتیں گر
ہم ایک دوسرے کا دل سے احترام کریں
ریاض شاہد
No comments:
Post a Comment