کایا کلپ
تجھ کو پہلی بار جو چوما
تیرے پیٹ پہ اک گلاب کا پھول کھلا
دوبارہ چوما
ایک پرندہ
تیرے اور میرے عریاں جسموں کے اوپر اڑا
پھر چوما اک طوفاں اٹھا
جب چوتھی بار تجھے چوما
بجلی کے کڑکوں نے آ گھیرا
خوشی میں ڈوبے جسم
اڑے
اک راکھ کی صورت
تو اک سرخ گلاب کی صورت
جیون کی اور چلی
میں ایک سفید پرندے کی مانند
موت کی سمت بڑھا
اقتدار جاوید
No comments:
Post a Comment