صفحات

Monday, 1 March 2021

آئینہ اندھیروں کو دکھا کیوں نہیں دیتے

 آئینہ اندھیروں کو دِکھا کیوں نہیں دیتے

اک شمع سرِ دار جلا کیوں نہیں دیتے

پتھر بھی چٹختے ہیں تو دے جاتے ہیں آواز

دل ٹوٹ رہے ہیں تو صدا کیوں نہیں دیتے

کب تک پسِ دیوار سِسکتے رہے انساں

شہروں کی فصیلوں کو گِرا کیوں نہیں دیتے

پابندئ اظہار سے بات اور بڑھے گی

احساس کو سُولی پہ چڑھا کیوں نہیں دیتے

کیا میری طرح خانماں برباد ہو تم بھی

کیا بات ہے، تم گھر کا پتا کیوں نہیں دیتے

ہم کو تو نہیں یاد کبھی دل بھی دُکھا تھا

رنجش کا سبب تم بھی بُھلا کیوں نہیں دیتے

ساحل پہ کھڑے ہیں جو غمِ دل کے سفینے

یادوں کے سمندر میں بہا کیوں نہیں دیتے

معلوم تو ہو شہر ہے یا شہرِ خموشاں؟

تم نقش کسی در پہ صدا کیوں نہیں دیتے


مقبول نقش

No comments:

Post a Comment