تیرا میرا ساتھ ابھی تو باقی ہے
اشکوں کی برسات ابھی تو باقی ہے
سب سے فرصت پالو تو پھر آؤں میں
اپنی بھی خیرات ابھی تو باقی ہے
کیسے کہوں کہ میں دنیا میں تنہا ہوں
سر پر ماں کا ہاتھ ابھی تو باقی ہے
غم نہ کرو تم دن ہی فقط یہ گزرا ہے
اپنی ہے جو رات ابھی تو باقی ہے
میں نے اب تک صرف غموں کو جھیلا ہے
خوشیوں کی سوغات ابھی تو باقی ہے
نازش اثری
No comments:
Post a Comment