صفحات

Friday, 26 March 2021

یہ پیاس بجھتی نہیں تھی چناب رکھتے تھے

 یہ پیاس بجھتی نہیں تھی، چناب رکھتے تھے

ہم اپنے دشت میں کیا کیا سراب رکھتے تھے

سمے کی رو میں بہے جا رہے ہیں ایک ہی سمت

گئے وہ دن، کہ دنوں کا حساب رکھتے تھے

جنوں کے ساتھ خرد بھی سرشت میں رکھی

سلیقہ بھی تِرے خانہ خراب رکھتے تھے

کہاں گئے، وہ جو روشن تھے طاقچوں میں چراغ؟

کہاں گئے، وہ جو آنکھوں میں خواب رکھتے تھے؟

ہمارا واسطہ مچھلی سے، جل سے، جال سے تھا

سو ایک دنیا الگ زیرِ آب رکھتے تھے

برہنہ لفظوں سے اب گفتگو ہے اپنے بیچ

اٹھا دئیے جو تکلف، حجاب رکھتے تھے

زمیں پہ گھومتے رہتے تھے سارا دن قاسم

فلک سے رات سوال و جواب رکھتے تھے


قاسم حیات

No comments:

Post a Comment