صفحات

Friday, 26 March 2021

دل سے نکال یاس کہ زندہ ہوں میں ابھی

 دل سے نکال یاس کہ زندہ ہوں میں ابھی

ہوتا ہے کیوں اداس کہ زندہ ہوں میں ابھی

مایوسیوں کی قید سے خود کو نکال کر

آ جاؤ میرے پاس کہ زندہ ہوں میں ابھی

آ کر کبھی تو دید سے سیراب کر مجھے

مرتی نہیں ہے پیاس کہ زندہ ہوں میں ابھی

مہر و وفا،۔ خلوص و محبت، گدازِ دل

سب کچھ ہے میرے پاس کہ زندہ ہوں میں ابھی

لوٹیں گے تیرے آتے ہی پھر دن بہار کے

رہتی ہے دل میں آس کہ زندہ ہوں میں

نایاب شاخِ چشم میں کھلتے ہیں اب بھی خواب

سچ ہے تِرا قیاس، کہ زندہ ہوں میں ابھی


جہانگیر نایاب

No comments:

Post a Comment