صفحات

Friday, 26 March 2021

تپش سے بھاگ کر پیاسا گیا ہے

 تپش سے بھاگ کر پیاسا گیا ہے

سمندر کی طرف صحرا گیا ہے

کنواں موجود ہے جل بھی میسر

وہ میرے گھر سے کیوں تشنہ گیا ہے

دوبارہ روح اس میں پھونک دو تم

بدن جو پھر اکیلا آ گیا ہے

زماں اپنی روش پر تو ہے قائم

مگر لمحات میں فرق آ گیا ہے

سفر میں تازہ دم ہو گا وہ کیسے

جو گھر ہی سے تھکا ماندہ گیا ہے

بنا ہو گا خس و خاشاک سے وہ

جو نبھ جلتا ہوا دیکھا گیا ہے

مجھے لہروں کی کشتی پر بٹھا کر

بھنور کی کھوج میں دریا گیا ہے

فگار اس میں وجود اس کا ملے گا

جو جویاں بحر کا قطرہ گیا ہے


جگدیش فگار

No comments:

Post a Comment