صفحات

Friday, 26 March 2021

ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے

 ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے

چشمِ ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہے

لطفِ پیہم نہ سہی جورِ مسلسل ہی سہی

ہر توجہ پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے

ان کے آگے لبِ اظہار پہ ہے مہرِ سکوت

ایک خاموش پرستش کا گماں ہوتا ہے

صرف تم دل کی تباہی کا سبب کیا ہوتے

بختِ ناساز کی سازش کا گماں ہوتا ہے

بات یہ کیا ہے عروج انکی ہر اک بات میں آج

اپنی ہر طرز گزارش کا گماں ہوتا ہے


عروج زیدی بدایونی

No comments:

Post a Comment