صفحات

Friday, 26 March 2021

کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سرخوشی کیا ہے

 کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سرخوشی کیا ہے

ابھی زمانے کا معیار آگہی کیا ہے

قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کر

یہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہے

کمند ڈال رہا ہے جو چاند تاروں پر

خدا ہی جانے کہ تقدیر آدمی کیا ہے

نفس کی آمد و شد پر بھی اختیار نہیں

یہ زندگی ہے تو مقصود زندگی کیا ہے

عروجؔ تیرگیٔ شب کا احترام کرو

اسی سے تم نے یہ جانا کہ تیرگی کیا ہے


عروج زیدی بدایونی

No comments:

Post a Comment