کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سرخوشی کیا ہے
ابھی زمانے کا معیار آگہی کیا ہے
قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کر
یہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہے
کمند ڈال رہا ہے جو چاند تاروں پر
خدا ہی جانے کہ تقدیر آدمی کیا ہے
نفس کی آمد و شد پر بھی اختیار نہیں
یہ زندگی ہے تو مقصود زندگی کیا ہے
عروجؔ تیرگیٔ شب کا احترام کرو
اسی سے تم نے یہ جانا کہ تیرگی کیا ہے
عروج زیدی بدایونی
No comments:
Post a Comment