Friday, 26 March 2021

تم مجھے لکھنے پر مجبور نہ کرو

برائی

 تم مجھے لکھنے پر مجبور نہ کرو

قلم کے روزے کا کفٗارا آگ ہے

خواب دیکھتی آنکھیں بے نور نہ کرو

سمے کی پیشانی پر غصہ اور منہ میں جھاگ ہے

دیمک زدہ کرسیوں پر براجمان بھوت

ڈراتے ڈراتے اچانک ڈر بھی سکتے ہیں

چہروں سے جھانک رہے تمہارے کرتوت

حُلیے بگڑ بگڑ کر مر بھی سکتے ہیں

لوگ اب خوشخبری سننا چاہتے ہیں

وہ جان و مال کے نقصان اور بھوک سے خوفزدہ نہیں ہیں

لیکن مکڑے مزید جالے بُننا چاہتے ہیں

اور وہ اپنی کوششوں میں بالکل تنہا نہیں ہیں

تم مُصیبت ہو جو خدا کی طرف سے آئی ہے

برداشت صبر ہے، لیکن خاموشی بُرائی ہے


توقیر گیلانی

No comments:

Post a Comment