صفحات

Wednesday, 3 March 2021

جاگا ہوا ہوں اور نہ سویا ہوا ہوں میں

 جاگا ہوا ہوں اور نہ سویا ہوا ہوں میں

ایسا تِرے خیال میں کھویا ہوا ہوں میں

سب کو سنا رہا ہوں لطیفے نئے نئے

حالانکہ پھوٹ پھوٹ کے رویا ہوا ہوں میں

خود کو کسی طرح نہیں کر پاتا ہوں الگ

کچھ اس طرح سے اس میں سمویا ہوا ہوں میں

تجھ سے تِرا خیال زیادہ حسین ہے

چپ رہ کہ تیری یاد میں کھویا ہوا ہوں میں

مرجھا رہا ہوں اور نہ پھل پھول آتے ہیں

کیا جانے کس زمین میں بویا ہوا ہوں میں

ڈھونڈا تمام عمر جسے میں نے آج تک

اس نے مجھے بتایا کہ کھویا ہوا ہوں میں

لگتی ہے اجنبی سی مجھے خود مِری صدا

برسوں پہ اپنے آپ سے گویا ہوا ہوں میں

تو اپنے سر پہ سارے گنہہ لے لے اے کمال

سب کہہ رہے ہیں؛ دودھ کا دھویا ہوں میں


احمد کمال حشمی

No comments:

Post a Comment